IQNA

9:17 - January 06, 2019
خبر کا کوڈ: 3505578
بین الاقوامی گروپ- سات سالہ فلسطینی بچی «سجی» صھیونی فاسفورس بموں کی وجہ سے نابینا پیدا ہونے کے باوجود مضبوط ارادے سے حافظہ قرآن بننے میں کامیاب ہوچکی ہے۔

ایکنا نیوز- خبررساں ادارے felesteen.ps؛ کے مطابق "اللهم بصِّرهَا وعلمها وأعني على تعليمها"(خدیا اس بینا کردے، علم دے اور مجھے تربیت کی توفیق دے) یہ فلسطینی بچی کے باپ «سعید خلة» کی دعا ہے کہ جب انکی نابینا بچی پیدا ہوئی تھی تو اس وقت انہوں نے یہ دعا مانگی۔

 

سجی جو نابینا پیدا ہوئی ہے والدین کی کاوشوں سے آج وہ صرف سات سال کی عمر میں حافظہ قرآن بن چکی ہے۔

 

سال ۲۰۰۸ کے آخری دنوں جب اسرائیل نے ممنوعہ بم یعنی فاسفورس بم کا استعمال کیا اور «سعید خلة» کے گاوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تو انکا خاندان بال بال بچا۔

 

انکا کہنا تھا:  اسرائیلی فوج نے شدید بم باری کی اور اس وقت میری بچی صرف ایک مہینے کی عمر میں ماں کے پیٹ میں تھی   تو میں نے گھر کے افراد کو«بیت لاهیا» شمالی غزہ لایا تاکہ انکی زندگی بچا سکوں، البتہ فاسفورس کی بدبو ہرجگہ پھیل چکی تھی اور ہم مجبور تھے کہ اسی حالت میں زندگی گزارتے۔

 

انکا کہنا تھا کہ ۲۳ دن کے بعد جنگ ختم ہوئی تاہم اسکے اثر سے سجی جب دنیا میں آئی تو بصارت سے محروم تھی۔

 

سعید خلة کا کہنا تھا: مجھے یقین ہے کہ سجی اسرائیلی بم باری اور ممنوعہ بم کے استعمال کی وجہ سے نابینا پیدا ہوئی تاہم میں اس پر بھی خدا کا شکر گزار ہوں۔

 

سجی شروع سے زہین تھی اور ہر کام تیزی سے سیکھ رہی تھی ، چار سال کی عمر میں قرآن سیکھنا شروع کیا اور ہر روز ایک لاین حفظ کرنے کی مشق کرتی اور پھر جلد روزانہ ایک صفحہ قرآن حفظ کرنا شروع کیا۔

 

 

عربی زبان کے اصول اور قواعد والد سے سیکھنے کے بعد انہوں نے صرف سات سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کرلیا۔

 

انکے والد کا کہنا تھا: ہم سجی کو باعث فخر سمجھتے ہیں اور ایک نابینا کی طرح ان سے سلوک نہیں کرتے ، وہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کی شوقین ہے اور بچے بھی ان سے خوب کھیلتے ہیں۔/

3778395

نام:
ایمیل:
* رایے: