IQNA

17:39 - January 10, 2019
خبر کا کوڈ: 3505600
بین الاقوامی گروپ-افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت پر طالبان کی جانب سے مذاکراتی عمل سے انکار کا مطلب یہ ہے کہ 17 برس سے جاری تنازع کا خاتمہ ایک خواب ہی رہے گا۔

ایکنا نیوز- ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ کا بیان طالبان کی جانب سے قطر میں امریکی حکام سے ہونے والے مذاکرات کے چوتھے مرحلہ منسوخ کرنے کے ایک روز بعد سامنے آیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ طالبان نے مذاکراتی عمل میں افغان حکومتی حکام کی موجودگی کو قطعی مسترد کیا۔

حالیہ چند ہفتوں میں مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے مسئلے کے حل کی کوششوں میں تیزی آئی ہے، یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی رپورٹس نے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔

امریکا طالبان قیادت پر افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے لیکن طالبان نے خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے مذاکراتی عمل میں افغان حکومت کی شمولیت سے متعلق درخواست کو بھی رد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ’افغانستان میں 17 سالہ جنگ کا مرکزی کردار امریکا رہا اور کابل محض ’کٹھ پتلی‘ حکومت ہے۔

 

عبداللہ نے کابل میں آئین کے 15 سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی تقریب میں بتایا کہ ’ ایسا امن معاہدہ جس میں ہمارے شہریوں کے وہ حقوق جنہیں ہم نے کئی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے ،ان کا احترام نہیں کیا جاتا تو ایسا معاہدہ صرف ایک خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہوگا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ غیر ملکی فورسز کے انخلا کی بات، جنگ جاری رکھنے اور مزید مواقع حاصل کرنے کا بہانہ ہے‘۔

طالبان رہنما نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے مذاکرات کے چوتھے مرحلے میں امریکی انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور طالبان رہنماؤں کی نقل و حمل پر عائد پابندی ہٹانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

طالبان ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی حکام کو 25 ہزار قیدی رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بدلے میں وہ 3 ہزار افراد کو رہا کریں گے لیکن امریکی حکام اس حوالے سے بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

افغانستان میں جاری جنگ امریکا کی طویل ترین بیرون ملک مداخلت ہے جس کے نتیجے میں واشنگٹن کے ایک کھرب ڈالر خرچ اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: