IQNA

13:13 - April 10, 2019
خبر کا کوڈ: 3505972
بین الاقوامی گروپ- امریکا نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں 16 سعودی شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ان 16افراد کے نام جاری کیے گیے تھے اور انہیں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، غیر ملکی آپریشنز اور ریلیٹڈ پروگرامز اپروپریشنز ایکٹ کے دائرہ کار میں نامزد کیا گیا تھا۔

 

بیان میں کہا گیا کہ جس شق کے تحت ان افراد کو نامزد کیا گیا ہے اس کے مطابق اسٹیٹ سیکریٹری کو یہ مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ غیرملکی حکومتوں کے عہدیداران کرپشن یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے وہ تمام افراد اور ان کے اہلخانہ امریکا میں داخلے کے لیے نااہل ہیں۔

بیان میں کہا گیا جی ’ قانون کے تحت ضروری ہے سیکریٹری آف اسٹیٹ کو ایسے عہدیداران اور ان کے اہلخانہ کو عوامی اور نجی سطح پر نامزد کرے‘۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس سے قبل 2 درجن سعودی عہدیداران کے ویزے منسوخ اور دیگر 17 کے اثاثے منجمد کردیے تھے۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟

سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔

 

تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق جمال خاشقچی کے قتل کی برراہ راست زمہ دار بن سلمان ہے جن کے حکم پر کارروایی کی گیی مگر سیاسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہویے امریکہ نے اس مسلے کو اچھالا نہیں اور ظاہری اقدامات تک محدود رہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: