IQNA

12:03 - April 14, 2019
خبر کا کوڈ: 3505986
بین الاقوامی گروپ- عراق کے نابینا حافظ محمد عبدالعلی کماش نے مختصر مگر جامع انداز میں بریل خط کے ساتھ تفسیر کو نابیناوں کے لیے لازم قرار دیا۔

ایکنا نیوز سے گفتگو میں چالیس سالہ عراقی حافظ جو ایرانی مقابلوں میں شریک ہے ملکی سطح پر متعدد بار اعزازات جیت چکے ہیں۔

 

 

 

محمدعبدالعلی کماش نے ایکنا سے گفتگو میں ایرانی مقابلوں کے اعلی معیار کو سراہتے ہوئے کہا : مقابلوں کے اہتمام سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ایران قرآن کو کسقدر اہمیت دیتا ہے اور اسی طرح بصارت سے محروم افراد کے لیے بھی وہ اہتمام کرتا ہے۔

 

مشکلات و رکاوٹیں

 

عراقی نابینا حافظ نے کہا: قرآن سیکھنے کے لیے نابینا سمیت تمام افراد کے لیے مضبوظ ارادہ، خواہش اور شوق لازمی ہے اور ان تینوں کے ہوتے ہوئے ہر چیز کا حصول ممکن ہے۔

انکا کہنا تھا کہ قرآن کے حفظ کے لیے میرے لیے سب سب مشکل کام استاد کا ڈھونڈنا تھا کیونکہ سال ۲۰۰۴ سے میں نے حفظ شروع کیا جو صدام کے خاتمے کا سال تھا اور اس وقت اچھے اداروں کی کمی تھی۔

عراقی حافظ:بریل میں تفسیر نابینا حفاظ کی اہم ترین ضرورت

کیسٹوں سے مدد

 

کماش نے کہا کہ استاد کی کمی کی وجہ سے میں نے تلاوت کی کیسٹیں سن سن کر حفظ شروع کیا۔

 

قرآنی استاد

 

عراق حافظ نے کہا کہ اس وقت میں آستانہ عباسی کے ادارے کے زیر نگرانی حفظ قرآن استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہاں ہوں۔

 

آستانہ عباسی

 

محمد عبدالعلی کماش نے کہا کہ میں کربلا کے سٹی «الهندیة» کے علاقے میں درس و تدریس میں مصروف عمل ہو اور آستانہ عباسی یا روضہ حضرت عباس سے وابستہ یہ ادارہ خدمات انجام دے رہاہے ۔

عراقی حافظ:بریل میں تفسیر نابینا حفاظ کی اہم ترین ضرورت

انکا کہنا تھا «الهندیة» میں قرآنی مرکز آستانہ عباسی کے تعاون سے انکی قرآنی ثمرات کا حصہ ہے اور اس ادارے کے طلبا ترکی کے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔/

3802982

نام:
ایمیل:
* رایے: