IQNA

13:13 - May 09, 2019
خبر کا کوڈ: 3506095
بین الاقوامی گروپ- دنیا کے شرق و غرب میں رمضان کی رونقیں دیکھنے کو مل رہی ہی اگر اگر یہ سب کچھ کہیں نظر نہیں آرہا تو وہ پاکستان کے پڑوسی چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ میں نظر نہیں آرہا۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق سنکیانگ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر پوسٹ کے مطابق، ’رمضان میں کھانے کی جگہیں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی‘ بلکہ اس پوسٹ میں یہاں تک لکھا گیا تھا کہ ’رمضان کے دوران روزے، شبِ بیداری اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے‘۔

 

سیو ایغور (Uighur) نامی ویب سائٹ کے مطابق، ’دنیا میں چین وہ واحد ملک ہے جہاں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور گزشتہ 3 برسوں سے یہاں کے مسلمانوں پر روزہ رکھنے پر پابندی عائد کی جاتی رہی ہے‘۔ دیگر رپورٹس کے مطابق رمضان میں عائد کی جانے والی پابندیوں کا اطلاق بالخصوص اسکولوں اور دفاتر پر ہوتا ہے۔

 

نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین نے 10 لاکھ ایغور نسل کے افراد کو نظربندی کے وسیع کیمپوں میں قید رکھا ہوا ہے۔ مغربی چین میں ایک بڑے صحرائی علاقے کے کنارے پر واقع کیمپ میں سیکڑوں ایغور مسلمانوں کو شدید دباؤ والے عقیدہ سازی (ان ڈاکٹرائنیشن) پروگرامز میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے جن میں انہیں لازماً چینی زبان اور ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ خود کو اپنی مذہبی شناخت ترک کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

 

یہ ریاست میں چلائے جانے والے ان متعدد نظربندی کے کیمپوں میں سے ایک کیمپ ہے، جن کے گرد کھار دار تاریں لگی ہیں اور جن کی نگرانی مسلح پہرہ دار کرتے ہیں۔ کیمپ کے ایک شخص نے بتایا کہ جنازے میں آیات کی تلاوت کرنے پر اسے پکڑ لیا گیا۔ کیمپ میں 3 ماہ بعد اسے اور دیگر افراد کو اپنی گزشتہ زندگیوں سے ترک تعلق کا کہا گیا۔ ان کیمپوں، جن میں برین واشنگ کا کسی نہ کسی قسم کا عنصر موجود ہے، میں گوشہ نشین کیے گئے کئی لوگوں سے بھی اسی قسم کے ترک تعلق کی توقع کی جاتی ہے۔

 

ایغور مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کو چینی حکومت کی جانب سے آزمائے جانے والے وسیع نگرانی (سرویلنس) پروگرام سے منسلک کیا جاتا ہے۔ سنکیانگ کاشغر کا اہم شہر ہے جو ایک زبردست مسلم تاریخ کا امین بھی ہے، اطلاعات کے مطابق اس شہر میں ہر جگہ کیمرا اور نگرانی کا انتظام نظر آتا ہے۔

 

اس کا مقصد ظاہر ہے کہ جاسوسوں اور مخبروں کی انسانی ذہانت کو ٹیکنالوجی سے بدلنا ہے۔ چیک پوائنٹس پر باقاعدگی کے ساتھ ایغور افراد کو قومی شناختی کارڈ دکھانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مسلح محافظ ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو پولیس ایغورافراد کے فونز لے کر یہ دیکھتی ہے کہ آیا ان کے فونز میں وہ لازمی سافٹ ویئرز انسٹال ہیں یا نہیں جو حکومت کو ان کی کالز کی مانیٹرنگ میں مدد کرتے ہیں۔

 

کبھی کبھار تو پولیس ان موبائل فونز سے ایسی چیزیں بھی ڈیلیٹ کردیتی ہے جن کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی۔ (ایک شخص نے شکایت کی کہ ایک بار پولیس افسر نے موبائل فون سے اونٹ کی تصویر ڈیلیٹ کردی تھی)، تاہم حالات چاہے جیسے بھی ہوں ان کے پاس اس بات کا پورا اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے کسی شخص کو چیک پوسٹ سے آگے جانے کی اجازت دیں یا نہ دیں۔

 

آبادی پر کنٹرول اور مانیٹرنگ کا فقط ایک یہی طریقہ نہیں۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکشن پر پہلے سے ہی حکومت کا کنٹرول ہے، یعنی اگر کوئی شخص حکومت کے خلاف کوئی بات کہتا ہے یا پھر کوئی شخص اپنے عقیدے سے بہت زیادہ وفاداری دکھاتا ہے تو وہ خطرے کی زد میں ہے۔

 

کاشغر کے مختلف علاقوں میں ’مانیٹرز‘ مقرر کیے گئے ہیں جن کا کام متعدد خاندانوں کی نگرانی رکھتے ہوئے یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ اصولوں کی خلاف ورزی نہ کر رہے ہوں، مثلاً پابندی کے باجود کہیں وہ چوری چھپے روزہ تو نہیں رکھ رہے ہیں؟

 

دنیا میں چین کی ابھرتی طاقت کے ساتھ پاکستان جیسے ممالک میں بھی بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کے خلاف غیر انسانی اور ناجائز کریک ڈاؤن پر لب کشائی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کئی مسلم ممالک چینیوں کے مقروض ہیں اور ایغور مسئلے پر کسی قسم کی زبانی مخالفت یا اقدام سے چین سے وابستہ ان کے مالی فوائد کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: