IQNA

9:18 - July 12, 2019
خبر کا کوڈ: 3506351
بین الاقوامی گروپ: سن 2015ء میں سعودی قیادت میں عرب عسکری اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ تاہم حوثیوں کے خلاف ان عسکری کارروائیوں کا کہیں نکتہ انجام دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب یمن میں القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند بھی بدستور موجود ہیں۔

ایکنا نیوز- شفقنا- متعدد میڈیا رپورٹوں سے واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت اب سعودی قیادت میں عرب اتحاد میں اپنی شمولیت پر نظرثانی کر رہی ہے۔ رواں ہفتے متحدہ عرب امارات کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ابوظہبی حکومت یمن میں متعدد مقامات سے اپنے فوجی واپس بلا رہی ہے، جس میں حدیدہ کا بندرگاہی شہر بھی شامل ہے۔

واشنگٹن میں مشرقِ وسطیٰ پالیسی سے متعلق ایک تھنک ٹینک کے مطابق یمن میں اماراتی فورسز اپنے زیرقبضہ علاقوں کا کنٹرول خصوصی تربیت یافتہ فورسز کے سپرد کر رہی ہے اور اریٹریا میں اپنے فوجی اڈے سے اپنے دستے بھی واپس بلا رہی ہے۔ اسی فوجی اڈے سے یمن میں عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق اماراتی حکومت یمن سے اس فوجی انخلا کا دفاع اس موقف کے ساتھ کر رہی ہے کہ جنوبی یمن میں اس کی عسکری مداخلت کے زیادہ تر اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں۔ ابوظہبی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوں کہ اقوام متحدہ اب اس تنازعے کے حل کے لیے سرگرم ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ عسکری کارروائیوں کو محدود کیا جائے۔

تاہم دوسری جانب ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس فوجی انخلا کی وجہ بالکل مختلف ہے۔ بین الاقوامی کرائسس گروپ کے خلیجی خطے سے متعلق امور سے وابستہ سینیئر ماہرایلیزبتھ ڈیکنسن کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمنی تنازعے میں اپنی عسکری مداخلت کے لیے دو اہداف رکھے تھے، جن میں سے ایک حوثیوں سے لڑائی تھی اور دوسرا شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی، جب کہ ان شدت پسند گروہوں میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں سے لے کر اخوان المسلمون سے وابستہ افراد بھی تھے، تاہم اب ابوظہبی حکومت یہ جان چکی ہے کہ یہ اہداف بے حد وسیع ہیں۔ ڈیکنسن کے مطابق متحدہ عرب امارات میں یہ سوچ بھی پیدا ہو چکی ہے کہ امارات فقط سعودی عرب کی وجہ سے اس تنازعے کا بلاوجہ حصہ بن گیا۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں بھی متحدہ عرب امارات کی حکومت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی فوج کو یمن سے نکالنا چاہتی ہے۔
یاد رہے کہ یمن میں سنہ 2015 میں جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے وہاں فضائی بمباری کی۔ یہ کارروائی حوثیوں کے خلاف کی گئی۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیو دی چلڈرن نے پچھلے سال اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یمن میں تین سال سے جاری قحط سالی کی وجہ سے اب تک 85 ہزار بچے مر چکے ہیں۔

جنگ زدہ یمن میں اپریل 2015 سے اکتوبر 2018 کے درمیان 84 ہزار 701 بچے خوراک کی کمی کے باعث انتقال کرگئے۔ مناسب مقدار میں خوراک نہ ملنے کے باعث بچوں کے اہم اعضاء نے آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیا اور مدھم ہوتی سانسیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئیں۔

نام:
ایمیل:
* رایے: