IQNA

8:48 - July 15, 2019
خبر کا کوڈ: 3506368
بین الاقوامی گروپ ـ مساجد پر حملوں کے بعد کشدہ صورتحال میں بہتری کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔

ایکنا نیوز- دی عرب ویکلی کے مطابق نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملوں کے بعد اجتماعی فضاء مسلمانوں کے حق میں بہتری کی سمت گامزن ہوچکی ہے اور اسلامی اسکولوں کے قیام کی اجازت کے ساتھ لاوڈ اسپیکرز کے استعمال کی اجازت اور اسی طرح ٹیلی ویژن سے بعض اسلامی پروگراموں کو نشرکرنا عام ہورہا ہے۔

 

اس سے پہلے مسلمان بعنوان اقلیت کیمونٹی کے بارے میں کم اطلاعات موجود تھیں لیکن مسجد «النور» اور «لینوڈ» حملے جنمیں پچاس سے زاید لوگ جان بحق ہوگیے تھے صورتحال بدل رہی ہے۔

 

حملوں کے بعد مسلم رہنماوں نے اعلی حکام سے ملاقاتوں میں مسائل سے آگاہ کیا جسکے نتیجے میں صورتحال بدلنے میں مدد مل رہی ہے. 

 

مسجد النور کے امام «جمال فودا» جو واقعہ میں بچ گیے تھے کا کہنا ہے کہ لوگوں کے مثبت رد عمل کی وجہ سے فضاء بہتر ہورہی ہے۔

 

مسجد النور میں واقعہ کے بعد اعلی حکام سمیت عالمی رہنماوں نے دورہ کیا اور ان سے ہمدردی کا اظھار کیا۔

 

امام مسجد کے مطابق مغرب کے بعض لوگ جو اسلام کے خلاف بات کرتے ہیں وہ اسلام سے اصل میں آگاہ نہیں اور ضروری ہے کہ انکو درست اطلاعات فراہم کی جائے۔

 

قابل ذکر ہے کہ کرائسٹ چرچ میں مساجد پر آسٹریلین نژاد نسل پرست دہشت گرد نے حملے میں اکیاون نمازیوں کو شہید کردیا تھا۔/

3827111

نام:
ایمیل:
* رایے: