IQNA

11:55 - July 21, 2019
خبر کا کوڈ: 3506394
بین الاقوامی گروپ-بھارت کے سیاحتی شہر آگرہ میں انتہا پسند ہندو تنظیم 'شیو سینا' نے تاج محل میں پوجا کی دھمکی دے دی۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق شیو سینا کی دھمکی کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے تاج محل کے باہر سیکیورٹی تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق آگرہ میں شیو سینا کے صدر وینو لاونیا نے دھمکی دی کہ ہندو مذہب کے مقدس ماہ ’ساون‘ میں ہر پیر کو تاج محل میں آرتی کی رسم ادا کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’تاج محل مقبرہ نہیں بلکہ ہندو دیوتا شیوا کا مندر تیجو مہالیا ہے‘۔

شیو سینا کے صدر نے مزید کہا کہ وہ تاج محل میں پوجا کے لیے اپنے حواریوں کے ساتھ جائیں گے اور اگر پولیس روک سکتی ہے تو روک کر دکھائے‘۔

دوسری جانب بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) نے ضلعی انتظامیہ کو ایک مراسلہ ارسال کیا جس میں کہا گیا کہ تاریخی عمارتوں میں کسی بھی قسم کی مذہبی رسومات کی ادائیگی ایکٹ 1958 کے خلاف ورزی ہے اور تاج محل میں کسی بھی نئی روایت کا آغاز بھی ایکٹ کے منافی ہے۔

اس حوالے سے سپر نٹنڈنٹ آرکیولوجسٹ وسنات سوارنقار نے بتایا کہ ’تاج محل میں کبھی آرتی یا پوچا نہیں ہوئی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ تاج محل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں‘۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) کے۔ پی سنگھ نے کہا کہ شہر میں امن و امان خراب کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اے ایس آئی کی درخواست پر قانون کے مطابق سیکورٹی کے انتظامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ 2008 میں انتہا پسند تنظیم شیو سینا کا ایک گروپ چھپ کر تاج محل میں داخل ہوا اور مخصوص طرز میں ہاتھ باندھ کر عبادت کرنے لگا جس پر پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا اور بیشتر کو گرفتار کر لیا تھا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: